کِسے خبر تھی کہ آنی والی رُتوں کا ہر پل اُداس ہو گا
دلوں میں شعلے مگر بدن پر منافقت کا لباس ہو گا
ہوس شرارے خلوص محلوں کو راکھ کرنے پہ تُل گئے ہیں
نہ بچ سکے گا کوئی سلامت مگر جو آدم شناس ہو گا
وہ ابر و باراں کی وحشتیں ہوں کہ جان لیوا تمازتیں ہوں
زمیں میں جس کی جڑیں نہ ہوں گی وہی شجر بد حواس ہو گا
رقم کروں گا مَیں جس میں تیری سکون افزا رفاقتوں کو
مری کتابِ حیات کا وہ حسیں ترین اقتباس ہو گا
اگر تیرا دل گئی رُتوں کی حسین یادوں کا آئینہ ہے
تو اب بھی دلکش حکایتوں کا کرن کرن انعکاس ہو گا
بھگا کے دم لے گا جگنوؤں کا جلوس اندھیروں کو اس نگر سے
چمن حصاروں، بدن فصیلوں میں اب نہ خوف و ہراس ہو گا
خزاں رُتوں کے عذاب لمحے گلاب چہروں کو ڈس رہے ہیں
بہار موسم پلٹ کے آیا بھی اب تو ازہر! اداس ہو گا
ازہر درانی
No comments:
Post a Comment