Friday, 18 February 2022

اپنی دونوں آنکھیں رکھ کر بھول آیا ہوں

 آنکھیں بھول آیا ہوں

جس کمرے میں

تم دونوں اب پہروں تنہا رہتے ہو

اس کمرے میں

غور سے دیکھو

میری کتنی یادوں

باتوں اور کتابوں کے چہروں میں 

حرف وفا کے چھپے ہوئے ہیں

ظالم گرد پڑی ہے ان پر

اس کمرے کی اک اک شے کو

غور سے دیکھو

وہیں

میں پاگل

اپنی دونوں آنکھیں رکھ کر

بھول آیا ہوں


منور جمیل قریشی

No comments:

Post a Comment