بزم طرب میں ساغر و مینا کا جوش ہے
میخانہ جل رہا ہے یہاں کس کو ہوش ہے
ساقی کے دستِ ناز سے رِستا ہوا لہو
فریاد کر رہا ہے؛ زمانہ خموش ہے
دیتے ہوئے پناہ وہ جلتے مکان میں
صیاد کہہ رہا ہے یہی ناؤ نوش ہے
گلہائے تر ہیں ہاتھ میں خنجر ہے جیب میں
کس اہتمام خاص سے وہ فام پوش ہے
راہِ وفا میں تونے بھی پودا لگا دیا
اپنے لہو سے سینچ اگر سرخ پوش ہے
پھولوں کی فکر خاص میں پھرتا ہے دربدر
عارف کا حال دیکھیۓ خانہ بدوش ہے
عارف نقوی
No comments:
Post a Comment