Friday, 18 February 2022

قلم کی جستجو ہے پھر لکھے کوئی فسانہ اب

 قلم کی جستجو ہے پھر لکھے کوئی فسانہ اب 

بیاں ہو گا کہاں تک ان دکھوں مارا ترانہ اب

گداگر کی طرح بھٹکی پھرے بازار میں غربت 

دہائی بھوک کی دیتا غریبوں کا گھرانہ اب 

گھٹا برسے مکاں کی چھت تلے ٹپ ٹپ گرے پانی 

فقیروں کے لیے تو کب رہا موسم سہانا اب

پڑوسی بھوک سے تڑپے شکم کو تر کرے تاجر 

ہمارے ہاں رہا ہے کب بھلائی کا زمانہ اب 

یہاں پر تو غرض سے ہی کرے اب دوستی ہر اک 

پرانے عہد جیسا نا رہا ہے دوستانہ اب 

محبت بھی ضروری ہے مگر اس دورِ حاضر میں 

نہیں ہے سلسلہ کوئی محبت کا پرانا اب 

سنو دلبر پرانا ہو چکا فرہاد کا قصہ

ہوس کا کھیل ہے سارا محبت ہے بہانہ اب


ظہور عالم

No comments:

Post a Comment