قلم کی جستجو ہے پھر لکھے کوئی فسانہ اب
بیاں ہو گا کہاں تک ان دکھوں مارا ترانہ اب
گداگر کی طرح بھٹکی پھرے بازار میں غربت
دہائی بھوک کی دیتا غریبوں کا گھرانہ اب
گھٹا برسے مکاں کی چھت تلے ٹپ ٹپ گرے پانی
فقیروں کے لیے تو کب رہا موسم سہانا اب
پڑوسی بھوک سے تڑپے شکم کو تر کرے تاجر
ہمارے ہاں رہا ہے کب بھلائی کا زمانہ اب
یہاں پر تو غرض سے ہی کرے اب دوستی ہر اک
پرانے عہد جیسا نا رہا ہے دوستانہ اب
محبت بھی ضروری ہے مگر اس دورِ حاضر میں
نہیں ہے سلسلہ کوئی محبت کا پرانا اب
سنو دلبر پرانا ہو چکا فرہاد کا قصہ
ہوس کا کھیل ہے سارا محبت ہے بہانہ اب
ظہور عالم
No comments:
Post a Comment