تلخ حقیقت
جوانی کا جوش چڑھا تو محبوبہ کا پیٹ بڑھا
مگر یہ اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی
کاریگر بندہ تھا بس میڈیکل سٹور سے مطلوبہ دوائی لی
اور محبوبہ تک پہنچا دی
بس دو چار اُلٹیاں ہی تو آنی تھیں
اور اس کے بعد مسئلہ حل
اب اتنی سی بات پر بھلا وہ کیوں پریشان ہو
گانے گاتا گھر میں داخل ہوا
تو اماں نے کہا؛ بیٹا بہن کو ہسپتال لے جا
طبیعت بڑی خراب ہے اس کی
کیا ہوا ہے اس کو
اس نے ماں سے پوچھا
ماں نے صحن میں پڑی
ادھ موئی بیٹی کی طرف دیکھا اور بولی
پتہ نہیں
صبح سے بس اُلٹیاں کیے جا رہی ہے
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
عثمان نیاز
No comments:
Post a Comment