Wednesday, 20 April 2022

دکھ بہت ہوتے ہیں یادوں کی پذیرائی میں

دکھ بہت ہوتے ہیں یادوں کی پذیرائی میں

اب اسے سوچنا مت موسمِ تنہائی میں

صرف اک بار مناظر پہ نظر ڈالی تھی

سو اسی دن سے کمی آ گئی بینائی میں

بے ضمیری کی بدولت تر و تازہ ہیں سبھی

ورنہ اک قہر ہے ہر روح کی گہرائی میں

کوئی زنجیر سے خائف کوئی رُسوائی کا دوست

بس یہی فرق ہے نادانی و دانائی میں


اسعد بدایونی

No comments:

Post a Comment