Wednesday, 20 April 2022

ہر عیب چھپاتے ہیں قباؤں کی طرح ہیں

 ہر عیب چھپاتے ہیں قباؤں کی طرح ہیں

مخلص ہیں مِرے یار وفاؤں کی طرح ہیں

کچھ لوگ بچھڑ کر بھی مِرے ساتھ رہے ہیں

ہونٹوں پہ کئی نام دعاؤں کی طرح ہیں

چہرے سے ذرا سخت نظر آتے ہیں تم کو

ہم لوگ تو معصوم دعاؤں کی طرح ہیں

سامان میں چھتری کی طرح ساتھ رہیں گے

ہم تپتی ہوئی دھوپ میں چھاؤں کی طرح ہیں

لفظوں میں اثر ہے تو کئی لہجے شفا ہیں

کچھ لمس اذیت میں دواؤں کی طرح ہیں

کچھ ہم بھی محبت میں اصولوں کے تھے قائل

کچھ ان کے رویے بھی اناؤں کی طرح ہیں

بارش کی طرح شور مچائیں گے کسی دن

خاموش تعلق جو ہواؤں کی طرح ہیں


فوزیہ شیخ

No comments:

Post a Comment