Wednesday, 20 April 2022

جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوں

 جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوں

تب اپنے آپ سے باہر نکل کے آتا ہوں

حسین خوابوں کو سارے ہرے پرندوں کو

جھلستی ذات کے صحرا میں چھوڑ آتا ہوں

جو ٹوٹتا ہے اجالوں کے شہر میں تارا

میں جگنوؤں کے لیے آشیاں بناتا ہوں

یہ میں نہیں ہوں یہ تیری نظر کا دھوکہ ہے

تو کون ہوں میں؟ کسی کو نہیں بتاتا ہوں


فاروق طاہر

No comments:

Post a Comment