نظر بھر کی خطا میں عشق کر جانے کی جرأت ہے
تمہیں بس دیکھنا تھا، اب سنور جانے کی جرأت ہے
نہیں ہے فُرصتِ غم پھر تمہیں اپنا بنانے کی
مگر اب خامشی میں گُھٹ کے مر جانے کی جرأت ہے
میں اُٹھ کر آ گیا تھا جوگ میں یونہی تمہارے ہاں
میں ٹِلہ جوگیاں کا ہوں سو گھر جانے کی جرأت ہے
فقط اک کھولتا سا زخم ہے میرے سرہانے جو
تڑپتا ہے سُلگتا ہے سو بھر جانے کی جرأت ہے
میں بارہ سال میں اپنی کہانی بھُول جاؤں گا
جہاں پرہیز ہے مجھ میں اُدھر جانے کی جرأت ہے
کسی کے درد میں کھو کر مُسلسل شاعری کرنا
فنا ہو کر کے دلدل میں اُبھر جانے کی جرأت ہے
تو کیا تم کو مراد وقت نے رُسوا کِیا پھر سے
مُکر جاؤ اگر ہمدم مُکر جانے کی جرأت ہے
سید مراد گیلانی
سید صدام گیلانی مراد
No comments:
Post a Comment