کُچھ دکھائے ہم کو خُدا دیکھتے چلیں
کیوں لوگ ہیں خُدا سے خفا دیکھتے چلیں
ٹکرا کے جس سے لوٹ گئی ہر صدا وہ در
خُوشبو کی دستکوں سے کُھلا دیکھتے چلیں
دُنیا ہمارے ساتھ تھی دورِ بہار میں
سایہ بھی اب ہے ہم سے جُدا دیکھتے چلیں
جلتا ہے تیز دُھوپ میں جب کھیت کا بدن
منہ پھیر کر چلی ہے گھٹا دیکھتے چلیں
چھینٹیں لہُو کی ہم سے یہ کہتی ہیں اے صدف
موسم ہے آج رنگ بھرا دیکھتے چلیں
صدف جعفری
No comments:
Post a Comment