Thursday, 22 July 2021

کن کا لکھا محاورہ ہے کوئی

کُن کا لکھا محاورہ ہے کوئی

زندگی خود میں حادثہ ہے کوئی

کامیابی، خراج مانگتی ہے

روشنی کے لیے جلتا ہے کوئی

شاعری سوچا سمجھا فتنہ ہے

جام آنکھوں کو بھی کہتا ہے کوئی

خُوشبوِ جام آئی حُجرے سے

وصل میں جال بُن رہا ہے کوئی

سانس در سانس آزمائش ہے

میرا جینا مُغالطہ ہے کوئی

صنفِ نازک کہاں سے لگتی ہے

ایک فتنہ ہے، ساحرہ ہے کوئی

وہ تجھے یوں پُکارتا نہ شہاب

اُس کی آواز بن رہا ہے کوئی


خواجہ شہاب الدین

No comments:

Post a Comment