کرتے ہیں مِرے نام وہ اک شام علیحدہ
ان کے ہیں زمانے سے سبھی کام علیحدہ
اس دل سے حسینوں کو نکالا نہیں جاتا
بت خانے سے ہوتے نہیں اصنام علیحدہ
دل پر ہیں کئی زخم جو دیکھے نہیں جاتے
یہ عشق الگ روگ ہے، آلام علیحدہ
افلاس کا مارا ہوں خوشی کیسے خریدوں
ان کی تو اداؤں کے بھی ہیں دام علیحدہ
ملتا ہے رقیبوں سے بھی ہنس ہنس کے منافق
کرتا ہے مِرے دل کو بھی وہ رام علیحدہ
اس نے جو کیا آنکھ سے مبہم سا اشارہ
الفت ہے کہ نفرت ہے؟ یہ ابہام علیحدہ
جب بھی تِرے آنے کی خبر مجھ کو ملی ہے
رکھا ہے تِرے نام کا ہر کام علیحدہ
رُکتی ہوئی سانسوں کا الگ شور ہے مظہر
دھڑکن نے مچا رکھا ہے کُہرام علیحدہ
شعیب مظہر
No comments:
Post a Comment