Thursday, 22 July 2021

ادھورے خط بند لفافوں میں کچھ آہیں ہیں

 ادھورے خط


بند لفافوں میں کچھ آہیں ہیں

کچھ لفظ ہیں حجابوں میں

جذبوں کی روشنائی میں لپٹے چند کاغذ ہیں

اور سانس رُکی ہے لفظوں کی

تمہارے نام پہ دم اٹکا ہے

تم تک جانے والے رستے پرانے پن کی باس نے روک رکھے ہیں

کئی برس سے دروازے میں بیٹھے پیغام

منتظر اِس بات کے کہ

میں تم تک سب کچھ آنے دوں

میں ٹوٹی بکھری سوچ لیے

کب سے ہاری بیٹھی ہوں

اور

چٹخے انا کے خول میں لپٹی

آواز کہیں سے آتی ہے

اب نامہ بر کو آنے دو


عظمیٰ طور

No comments:

Post a Comment