کوئی نہیں فائدہ، خسارہ کوئی نہیں ہے
سبھی کے ہم ہیں مگر ہمارا کوئی نہیں ہے
صراحتوں کے مہیب جنگل میں کھلنے والو
تمہیں کسی رمز کا اشارہ کوئی نہیں ہے
اک التباسِ نہایت و ابتدا کی رو میں
قیام جاری سا ہے کنارہ کوئی نہیں ہے
بیانیوں میں گھرے ہوئے خواب پوچھتے ہیں
سخن کی بستی میں استعارہ کوئی نہیں ہے
کھلا یہ پرواز سے، ہے تفریق اعتباری
فلک پہ جگنو ہیں سب، ستارہ کوئی نہیں ہے
گھروں سے نکلے ہیں جس کے پیچھے یہ لوگ راضی
وہ دل💓 کی آواز ہے، پکارا کوئی نہیں ہے
رفاقت راضی
No comments:
Post a Comment