Thursday, 22 July 2021

بگڑنے والا کسی دن سنور ہی جائے گا

 بگڑنے والا کسی دن سنور ہی جائے گا

مزاج دوست بالآخر سدھر ہی جائے گا

مریض عشق ابھی بیکلی میں ہے لیکن

بخار ایک دن اس کا اتر ہی جائے گا

جو پھول آج سر شاخ ہے مہکتا ہوا

وہ ایک موج صبا میں بکھر ہی جائے گا

گزر رہی ہے پریشان زندگی، لیکن

چلے چلو کہ یہ رستہ گزر ہی جائے گا

اسی خیال سے نیکی ضرور کرتی ہوں

کہ بوند بوند سے تالاب بھر ہی جائے گا

جو گر کے راہ میں اٹھنے کا عزم رکھتا ہے

وہ پار آگ کا دریا بھی کر ہی جائے گا

یہ سوچ کر ہی روابط میں عجز بھی رکھنا

ہے جس کی خاک جہاں کی ادھر ہی جائے گا

سبیلہ خواب میں وہ سیر کو اگر نکلے

اڑن کھٹولے پہ پریوں کے گھر ہی جائے گا


سبیلہ انعام صدیقی

No comments:

Post a Comment