Sunday, 23 May 2021

اس کی آنکھوں میں محبت کی چمک آج بھی ہے

اس کی آنکھوں میں محبت کی چمک آج بھی ہے

اس کو حالانکہ مِرے پیار پہ شک آج بھی ہے

ناؤ میں بیٹھ کے دھوئے تھے کبھی ہاتھ اس نے

سارے تالاب میں مہندی کی مہک آج بھی ہے

میری اک شرٹ میں کل اس نے بٹن ٹانکا تھا

شہر کے شور میں چوڑی کی کھنک آج بھی ہے

اسے کھو کر بھی نہ کھونے کی خوشی اب نہ رہی

اسے پا کر بھی نہ پانے کی کسک آج بھی ہے

زخم سب سوکھ گئے ہیں مِرے مرہم کے بنا

میرے اک دوست کی مٹھی میں نمک آج بھی ہے


تنویر غازی

No comments:

Post a Comment