Sunday, 23 May 2021

یہی تو بات گوارا نہیں محبت کو

 یہی تو بات گوارا نہیں محبت کو

کہ دستیاب میں سارا نہیں محبت کو

سخن شناس مِری بات کی گواہی دیں

بسر کیا ہے گزارا نہیں محبت کو

جو بات سچ ہے اسے صاف صاف کہہ دی ہے

دعائیں دوں گا، سہارا نہیں محبت کو

پرانے گھاؤ کھرچ کر دکھا دئیے ہیں اسے

بتا دیا ہے خسارہ نہیں محبت کو

پھر اس کے بعد کوئی پیرہن نہیں بدلا

پہن لیا تو اتارا نہیں محبت کو

ہمارے اشک ستارے نہ بن سکے بہنام

کوئی خیال ہمارا نہیں محبت کو


بہنام احمد

No comments:

Post a Comment