Monday, 24 May 2021

اب وصل کے اصرار پہ بھی ٹیکس لگے گا

 اب وصل کے اصرار پہ بھی ٹیکس لگے گا

سنتے ہیں کہ دیدار پہ بھی ٹیکس لگے گا

اب ٹیکس اداؤں پہ بھی دینا ہی پڑے گا

بے وجہ کے انکار پہ بھی ٹیکس لگے گا

بھر جائے گا اب قومی خزانہ یہ ہے امکاں

ہر عشق کے بیمار پہ بھی ٹیکس لگے گا

اب باغ کی رونق کو بڑھائے گا بھلا کون

ہر پھول پہ ہر خار پہ بھی ٹیکس لگے گا

جس زلف پہ لکھتے ہیں صبح و شام سخنور

اسی زلف کی ہر تار پہ بھی ٹیکس لگے گا

یاسر میاں دیوان کو اب اپنے سمیٹو

کہتے ہیں کہ اشعار پہ بھی ٹیکس لگے گا


یاسر علی

No comments:

Post a Comment