اب وصل کے اصرار پہ بھی ٹیکس لگے گا
سنتے ہیں کہ دیدار پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب ٹیکس اداؤں پہ بھی دینا ہی پڑے گا
بے وجہ کے انکار پہ بھی ٹیکس لگے گا
بھر جائے گا اب قومی خزانہ یہ ہے امکاں
ہر عشق کے بیمار پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب باغ کی رونق کو بڑھائے گا بھلا کون
ہر پھول پہ ہر خار پہ بھی ٹیکس لگے گا
جس زلف پہ لکھتے ہیں صبح و شام سخنور
اسی زلف کی ہر تار پہ بھی ٹیکس لگے گا
یاسر میاں دیوان کو اب اپنے سمیٹو
کہتے ہیں کہ اشعار پہ بھی ٹیکس لگے گا
یاسر علی
No comments:
Post a Comment