Thursday, 3 March 2022

فوٹو فریم وہ کیل بھی اب نہیں بچی ہے

فوٹو فریم


وہ کیل بھی اب نہیں بچی ہے

سہارا تھی اس شکستہ فوٹو فریم کا جو

فریم میں لیکن ایک بچی

جو اپنی ڈلیا میں تازہ پُھولوں کو چُن رہی ہے

جو ننھی کلیوں کے مُنھ پہ مُنھ رکھ کے اپنے دل

کی ہر اک کہانی

سُنا رہی ہے

نہ جانے کب سے

وہ بچی اب مجھ سے کہہ رہی ہے

جو ہو سکے تو میری کہانی

تم اپنی نظموں میں ڈھال دینا


عباس رضا نیر

No comments:

Post a Comment