فوٹو فریم
وہ کیل بھی اب نہیں بچی ہے
سہارا تھی اس شکستہ فوٹو فریم کا جو
فریم میں لیکن ایک بچی
جو اپنی ڈلیا میں تازہ پُھولوں کو چُن رہی ہے
جو ننھی کلیوں کے مُنھ پہ مُنھ رکھ کے اپنے دل
کی ہر اک کہانی
سُنا رہی ہے
نہ جانے کب سے
وہ بچی اب مجھ سے کہہ رہی ہے
جو ہو سکے تو میری کہانی
تم اپنی نظموں میں ڈھال دینا
عباس رضا نیر
No comments:
Post a Comment