Thursday, 3 March 2022

نگاہ حسن کی تاثیر بن گیا شاید

نگاہ حسن کی تاثیر بن گیا شاید

خیال ذہن میں زنجیر بن گیا شاید

وہ ایک نام جو تم نے مٹا دیا ہے ابھی

جبینِ وقت پہ تحریر بن گیا شاید

مِری نگاہ میں نا معتبر تھا جس کا وجود

وہ فاصلہ مِری تقدیر بن گیا شاید

خود اپنا چہرہ بھی اب تو نظر نہیں آتا

ہر آئینہ تِری تصویر بن گیا شاید

رہِ خلوص میں فطرت تھی جس کی مستحکم

وہ سنگِ میل بھی رہگیر بن گیا شاید


فطرت انصاری

No comments:

Post a Comment