چپ اور چادر
اس چپ کے گہرے پردے میں
چھپ چھپ کے اداسی روتی ہے
کچھ نیندیں بچھڑی رہتی ہیں
کچھ خواب ادھورے سوتے ہیں
اک بھیگی رات کا آنگن ہے
آنگن میں خوشبو چادر ہے
چادر کا تن بھی سمٹا سا
کیا اس میں کوئی بھید چھپا ہے
چپ اور چادر مجھ کو تو
اک جیسے ہی دکھتے ہیں
فرحین چودھری
No comments:
Post a Comment