Thursday, 3 March 2022

اس چپ کے گہرے پردے میں

 چپ اور چادر


اس چپ کے گہرے پردے میں

چھپ چھپ کے اداسی روتی ہے

کچھ نیندیں بچھڑی رہتی ہیں

کچھ خواب ادھورے سوتے ہیں

اک بھیگی رات کا آنگن ہے

آنگن میں خوشبو چادر ہے

چادر کا تن بھی سمٹا سا

کیا اس میں کوئی بھید چھپا ہے

چپ اور چادر مجھ کو تو

اک جیسے ہی دکھتے ہیں


فرحین چودھری 

No comments:

Post a Comment