کسی سے جنگ کسی سے جہاد چاہتے ہیں
خدا کے نام پہ کیا کیا فساد چاہتے ہیں
یہ گِدھ نہیں یہ مِرے خاندان والے ہیں
یہ میرا گوشت نہیں جائیداد چاہتے ہیں
کریں گے تجھ سے کبھی خواب کے تبادلے بھی
ابھی تو صرف تِرا اعتماد چاہتے ہیں
خدا کو خوشیوں کے عالم میں پوچھتے بھی نہیں
یہاں چراغ کو سب دن کے بعد چاہتے ہیں
میں بے سبب تجھے ملنے کا تھوڑی کہتا ہوں
نمو کے واسطے پودے بھی کھاد چاہتے ہیں
اکیلا میں نہیں مصرعوں کا مالک و معبود
لغت نویس بھی لفظوں سے داد چاہتے ہیں
خدا کو زحمتِ کُن دینی چاہیۓ حمزہ
تمام کون و مکاں اجتہاد چاہتے ہیں
حمزہ یعقوب
No comments:
Post a Comment