Thursday, 3 March 2022

کسی سے جنگ کسی سے جہاد چاہتے ہیں

 کسی سے جنگ کسی سے جہاد چاہتے ہیں 

خدا کے نام پہ کیا کیا فساد چاہتے ہیں 

یہ گِدھ نہیں یہ مِرے خاندان والے ہیں 

یہ میرا گوشت نہیں جائیداد چاہتے ہیں 

کریں گے تجھ سے کبھی خواب کے تبادلے بھی 

ابھی تو صرف تِرا اعتماد چاہتے ہیں 

خدا کو خوشیوں کے عالم میں پوچھتے بھی نہیں 

یہاں چراغ کو سب دن کے بعد چاہتے ہیں 

میں بے سبب تجھے ملنے کا تھوڑی کہتا ہوں 

نمو کے واسطے پودے بھی کھاد چاہتے ہیں 

اکیلا میں نہیں مصرعوں کا مالک و معبود 

لغت نویس بھی لفظوں سے داد چاہتے ہیں 

خدا کو زحمتِ کُن دینی چاہیۓ حمزہ

تمام کون و مکاں اجتہاد چاہتے ہیں 


حمزہ یعقوب

No comments:

Post a Comment