Thursday, 3 March 2022

ہر ایک امتحاں ہر اک سزا سے بچنا تھا

 ہر ایک امتحاں ہر اک سزا سے بچنا تھا

ہمیں تو زندگی جیسی بلا سے بچنا تھا

تمہارے ہجر سے خود کو بچا لیا تو کُھلا

مجھے تو ذہن میں پھیلے خلا سے بچنا تھا

یہ ایسی دوڑ تھی جس میں کوئی صفل نہ ہوا

ہمیں بتوں سے، بتوں کو خدا سے بچنا تھا

تمام رات اندھیرے سے چُھپتے پھرتے رہے

وہ چڑھتے دن جنہیں بادِ صبا سے بچنا تھا

ہمیں خدا کا یا بس نا خدا کا آسرا تھا

کبھی دعا سے کبھی بد دعا سے بچنا تھا

اسی لیے تو سہارے تلاش کرتے رہے

کسی کو خود سے کسی کو خدا سے بچنا تھا

کچھ ایسے تھے کہ جو دشمن سے خوف کھاتے تھے

کچھ ایسے تھے کہ جنہیں ہمنوا سے بچنا تھا

محبتوں کی وبا جان لیوا ہوتی ہے

تمہاری سمت سے آئی ہوا سے بچنا تھا

اک ایسی یاد تھی جس کو بھلا نہ سکتے تھے

مرض تھا ایسا کہ جس میں دوا سے بچنا تھا

اک ایسی قید کہ جس میں گھٹن بہت تھی ولی

گھٹن بھی ایسی کہ تازہ ہوا سے بچنا تھا


ولید ولی

No comments:

Post a Comment