ہر ایک امتحاں ہر اک سزا سے بچنا تھا
ہمیں تو زندگی جیسی بلا سے بچنا تھا
تمہارے ہجر سے خود کو بچا لیا تو کُھلا
مجھے تو ذہن میں پھیلے خلا سے بچنا تھا
یہ ایسی دوڑ تھی جس میں کوئی صفل نہ ہوا
ہمیں بتوں سے، بتوں کو خدا سے بچنا تھا
تمام رات اندھیرے سے چُھپتے پھرتے رہے
وہ چڑھتے دن جنہیں بادِ صبا سے بچنا تھا
ہمیں خدا کا یا بس نا خدا کا آسرا تھا
کبھی دعا سے کبھی بد دعا سے بچنا تھا
اسی لیے تو سہارے تلاش کرتے رہے
کسی کو خود سے کسی کو خدا سے بچنا تھا
کچھ ایسے تھے کہ جو دشمن سے خوف کھاتے تھے
کچھ ایسے تھے کہ جنہیں ہمنوا سے بچنا تھا
محبتوں کی وبا جان لیوا ہوتی ہے
تمہاری سمت سے آئی ہوا سے بچنا تھا
اک ایسی یاد تھی جس کو بھلا نہ سکتے تھے
مرض تھا ایسا کہ جس میں دوا سے بچنا تھا
اک ایسی قید کہ جس میں گھٹن بہت تھی ولی
گھٹن بھی ایسی کہ تازہ ہوا سے بچنا تھا
ولید ولی
No comments:
Post a Comment