Thursday, 3 March 2022

چراغ شب ہوں کہ صورت میں تخلیہ ہوں میں

 چراغِ شب ہوں کہ صورت میں تخلیہ ہوں میں

مجھے بھی دیکھ، حقیقت کا آئینہ ہوں میں

مِرے حصار میں تجھ کو غروب ہونا ہے

تمہاری آخری سرحد پہ حاشیہ ہوں میں

ہر ایک سمت تعاقب میں غرق ہے میرے

مجھے بھی ڈھونڈئیے منظر کا دائرہ ہوں میں

چھڑک دو میرا لہو بے ثبات چہروں پر

میں خود شناس ہوں بیتاب سلسلہ ہوں میں

جما دیا مِری آنکھوں پہ گرد نے زنگار

دیارِ ہست کا ویران راستہ ہوں میں

کہیں کہیں ہے مِرا نقشِ ہمنوا موجود

مِرا بھی کیجئے محفل میں تذکرہ ہوں میں


کامران اسیر

No comments:

Post a Comment