بوجھ ہے دل پہ رلاؤ مجھ کو
پھر گلے سے بھی لگاؤ مجھے کو
ان کے آنے کی خبر پھیلی ہے
اب تو دلہن سا سجاؤ مجھ کو
خود کو مٹی کیا تیری خاطر
اور نہ مٹی میں ملاؤ مجھ کو
مت ملو اتنے نقابوں میں مجھے
اصل چہرہ بھی دکھاؤ مجھ کو
تیرگی یوں تو بہت ہے ہر سو
تم دیا سا ہی جلاو مجھ کو
کرچیاں چھبتی اگر ٹوٹیں تو
خواب ایسے نہ دکھاو مجھ کو
کیسے برباد ہوئے ہیں ارفع
پھر سے روداد سناؤ مجھ کو
ارفع کنول
No comments:
Post a Comment