Thursday, 3 March 2022

بوجھ ہے دل پہ رلاؤ مجھ کو

 بوجھ ہے دل پہ رلاؤ مجھ کو

پھر گلے سے بھی لگاؤ مجھے کو

ان کے آنے کی خبر پھیلی ہے

اب تو دلہن سا سجاؤ مجھ کو

خود کو مٹی کیا تیری خاطر

اور نہ مٹی میں ملاؤ مجھ کو

مت ملو اتنے نقابوں میں مجھے

اصل چہرہ بھی دکھاؤ مجھ کو

تیرگی یوں تو بہت ہے ہر سو

تم دیا سا ہی جلاو مجھ کو

کرچیاں چھبتی اگر ٹوٹیں تو

خواب ایسے نہ دکھاو مجھ کو

کیسے برباد ہوئے ہیں ارفع

پھر سے روداد سناؤ مجھ کو


ارفع کنول

No comments:

Post a Comment