جو میری ہتھیلی پہ ہیں دوچار لکیریں
اک عمر سے ہیں لاغر و بیمار لکیریں
کاغذ پہ ابھر آتا ہے موہوم سا چہرہ
یونہی تو نہیں کھینچتا فنکار لکیریں
اس طرح لگی ذہن پہ حالات کی ٹھوکر
ماتھے پہ ہوئیں سوچ کی بیدار لکیریں
طوفان کی آمد کا یقیں ہونے لگا ہے
ساحل کی جبیں پر نہیں بیکار لکیریں
بے ربط ستاروں کے ملائے گئے گوشے
تھیں شب کی سیہ پرت پہ خمدار لکیریں
کیوں چیختی چلاتی ہیں حرفوں کی زباں میں
قرطاس کے سر پر تو نہیں بار لکیریں
ہم ڈوبتے مہتاب سے لائیں گے نئی صبح
ابھری ہیں سر سحر ضیا بار لکیریں
مضمون کی تفہیم کو میں بھانپ گیا ہوں
قرطاس کے ابرو پہ ہیں خمدار لکیریں
تصویر خیالی کو بنانے لگا نقاش
منہ تکنے لگیں اس کا طرحدار لکیریں
ہر دیکھنے والا ہی بنا نقش بہ دیوار
صابر نے جو کھینچیں سر دیوار لکیریں
صابر جاذب
No comments:
Post a Comment