Friday, 14 October 2022

ایسا نہیں کہ درد کا پہرا نہیں رہا

ایسا نہیں کہ درد کا پہرہ نہیں رہا

ہاں یہ ہوا جو زخم تھا گہرا نہیں رہا

خوابوں میں بھی وہ شخص نہیں آ رہا مِرے

آنکھوں میں بھی وہ چاند سا چہرہ نہیں رہا

اتنا سکوت ہے کہ ستم جبر کے خلاف

اس شہر میں علَم کوئی لہرا نہیں رہا

سیراب اپنے آپ کو خود ہی کیا، سو اب

مِرے وجود میں کوئی صحرا نہیں رہا

تم آخری مکین ہو، سو اب تمہارے بعد

اس دل میں میں کسی کو بھی ٹھہرا نہیں رہا


سلیم عباس

No comments:

Post a Comment