ایسا نہیں کہ درد کا پہرہ نہیں رہا
ہاں یہ ہوا جو زخم تھا گہرا نہیں رہا
خوابوں میں بھی وہ شخص نہیں آ رہا مِرے
آنکھوں میں بھی وہ چاند سا چہرہ نہیں رہا
اتنا سکوت ہے کہ ستم جبر کے خلاف
اس شہر میں علَم کوئی لہرا نہیں رہا
سیراب اپنے آپ کو خود ہی کیا، سو اب
مِرے وجود میں کوئی صحرا نہیں رہا
تم آخری مکین ہو، سو اب تمہارے بعد
اس دل میں میں کسی کو بھی ٹھہرا نہیں رہا
سلیم عباس
No comments:
Post a Comment