Friday, 14 October 2022

جب ذرا ہوش میں آؤں گا چلا جاؤں گا

 جب ذرا ہوش میں آؤں گا، چلا جاؤں گا

زیست کا بوجھ اٹھاؤں گا، چلا جاؤں گا

ابھی بیٹھا ہوں کمیں گاہ میں دشمن کے لیے

آخری تیر چلاؤں گا، چلا جاؤں گا

زندگی سے ابھی تک نیم تعارف ہے مِرا

کچھ رہ و رسم بڑھاؤں گا، چلا جاؤں گا

میں جو مٹی کے لبادے میں چھپایا گیا ہوں

پل کے پل خاک اڑاؤں گا، چلا جاؤں گا

ایک دن تیز ہواؤں میں دھواں بن کے میں

کسی کے ہاتھ نہ آؤں گا، چلا جاؤں گا

ایک زنجیر سے باندھی گئی ہر روح سمیر

اپنے وعدے کو نبھاؤں گا، چلا جاؤں گا


سمیر شمس

No comments:

Post a Comment