عارفانہ کلام نعتیہ نظم
حنانہ
(تمام احباب کو جشنِ مولود نبیﷺ مبارک ہو۔)
میں وقت کی بھٹی کا ایندھن
مقہور شجر
بے برگ و ثمر
بس رزقِ تبر
میں وقت کی بھٹی کا ایندھن
اے شمسِ ضُحیٰ
اے ساقئ کوثر، ابرِ بہار
اے راحتِ قلبِ حزیں، اے حیلۂ دیدۂ تر
میں وقت کی بھٹی کا ایندھن
اور وقت تِرےﷺ در کا چاکر
مجھ ٹوٹے ہوئے کو دھیان میں رکھ
مہجور نہ کر
مجھے دور نہ کر
سلطان ناصر
حنانہ: مسجدِ نبویؐ کا چوبی ستون/لکڑی کا ستون، جس سے آقاﷺ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے، بعد میں جب مسجد مبارکہ میں منبر بنایا گیا تو روایت ہے کہ یہ ستون چیخ کر رویا جس پر اس کا نام حنانہ (نوحہ کرنے والی یا والا) رکھا دیا گیا۔ اس نظم میں شاعر نے خود کو اس ستون سے تشبیح دیتے ہوئے التجا کی ہے کہ آقاﷺ مجھے خود سے دور مت کریں۔
No comments:
Post a Comment