یہیں کہیں سے کہیں نہیں تک
یہیں کہیں اک میل کے پتھر پر لکھا تھا
چلتے جاؤ
کہیں نہیں بس چار دنوں کی دُوری پر ہے
کہیں نہیں کے نام میں کوئی عجب کشش تھی
جتنا چلتے پاؤں نہ تھکتے
ناک کی سیدھ اور کان کے ٹیڑھ میں چلتے چلتے
جانے کتنی صدیاں برسیں
لیکن کہیں نہیں کی مسجد کے مینار نظر نہیں آئے
شہر پنہ نہیں آئی، خیام نہ آئے، فصیل کے در نہیں آئے
دُور کہیں اک جھیل کے پانی میں سیمرغ کا عکس ملا
اور کہنے لگا
بس چلتے جاؤ، چلتے جاؤ
یہی تمہارا چلتے جانا کہیں نہیں ہے
سلطان ناصر
No comments:
Post a Comment