Sunday, 1 August 2021

حصار چشم محبت تیرا خدا حافظ

 حصارِ چشمِ محبت، تیرا خدا حافظ

نہیں ہے تجھ سے شکایت، تیرا خدا حافظ

تمہارے کنجِ قفس میں یہ دم لگا گُھٹنے

نہیں ہوئی تیری عادت، تیرا خدا حافظ

ہم اپنے حرف میں شمعیں نئی جلائیں گے

اندھیری رات کی مہلت، تیرا خدا حافظ

قبائے درد پہ کھلنے لگے گُلاب نئے

گُلِ مُراد کی ساعت، تیرا خدا حافظ

غزل سرا تھی ہوا کیا چراغ کے آگے

اے نغمہ گر کی سہولت، تیرا خدا حافظ

نقاب پہنے ہوئے ہیں سبھی حلیف و حریف

غلام دیس کی حالت، تیرا خدا حافظ

تخیلات میں شورش کی دُھند چھائی ہے

اے میرے عالمِ حیرت، تیرا خدا حافظ

یہ راجدھانی میرے دل کی اب بھی خالی ہے

نہ کر سکا تُو حکومت، تیرا خدا حافظ

دِیے کی لو کو بڑھاؤں تو شیشۂ حیرت

بڑھے گی اپنی ہی وحشت، تیرا خدا حافظ


آمنہ بہار

No comments:

Post a Comment