قرنطینہ ۱
زندگی میں یہ پہلا موقع ہے
کہ میرے اندر باہر ایک جیسا سنّاٹا ہے
چِڑیوں اور بچوں کا شور بھی
اس سنّاٹے کو کم نہیں کر پا رہا
خُود کو زندہ رہنے پر اُکسانے کا عمل
اب روزانہ کی بُنیاد پر کرنا پڑتا ہے
دِیمک کی طرح پھیلتی فراغت
مصروفیت کے بہانے کھوکھلے کیے دے رہی ہے
کتنی ہی کتابیں
میرا انتظار کرتے کرتے
بُوڑھی ہو چکی ہیں
ان میں کچھ میری محبوبائیں بھی ہیں
جن سے محض سرسری ملاقات ہی رہی
اور اب فُرصت کے اِس بے کنار منظر میں
میری نظر شلیف کی طرف نہیں اُٹھ رہی
کچھ ادھُوری نظموں کو
یک دم اُمید سی ہو چلی تھی
لیکن میں کیا کروں
میں دن میں کئی بار ہاتھ دھوتا ہوں
اور ان نظموں پر پانی ڈال آتا ہوں
سلمان ثروت
No comments:
Post a Comment