فتنہ جگائیے، کوئی محشر اٹھائیے
بیٹھے ہیں انتظار میں ہم سر اٹھائیے
ہاں ہاں بڑھائیے مِری وحشت کی آرزو
کیا سوچتے ہیں؟ آپ بھی پتھر اٹھائیے
ساغر نہیں کہ جھوم کے اٹھے، اٹھا لیا
یہ زندگی کا بوجھ ہے مل کر اٹھائیے
کانٹے کہیں حضور کا دامن نہ تھام لیں
رکیے، ذرا سنبھل کے گلِ تر اٹھائیے
اک جنبشِ نگاہ بہت ہے مِرے لیے
کیا فائدہ کہ زحمتِ خنجر اٹھائیے
ہوش جونپوری
(اصغر مہدی ہوش)
No comments:
Post a Comment