چشمِ نمناک نے سمجھنا ہے
حیرتی خاک نے سمجھنا ہے
کتنا پانی ہے تیری آنکھوں میں
ایک تیراک نے سمجھنا ہے
تیسرا اس لیے بنایا گیا
جفت کو طاق نے سمجھنا ہے
ایک شعلہ کہ جس کو سگرٹ نے
اور پوشاک نے سمجھنا ہے
میں اڑایا گیا کہ مجھ کو تِرے
ہفت افلاک نے سمجھنا ہے
زخم پیوند کیوں نہیں ہوتا
یہ تِرے چاک نے سمجھنا ہے
جسم نے جسم کو پکارا ہے
خاک کو خاک نے سمجھنا ہے
یار ہم سے گناہ گاروں کو
پھر کسی پاک نے سمجھنا ہے
ندیم بھابھہ
No comments:
Post a Comment