اک نئی طرز کا کردار دیا جائے گا
اس کہانی میں مجھے مار دیا جائے گا
جو تِرے سامنے لب بستہ رہے ہیں ان کو
ایک دن جذبۂ اظہار دیا جائے گا
اب سنی جائے گی اس عہد کے محکوموں کی
حاکمِ وقت کو للکار دیا جائے گا
جانتا تھا کہ مجھے تنگ نظر لوگوں میں
میری غربت کے عوض ہار دیا جائے گا
جو بھی اس شہر کے مرحب سے لڑے گا، اُس کو
تمغۂ حیدرِ کرّار دیا جائے گا
اپنے یاروں کی طبیعت سے شناسا ہوں اسد
اب تعلق پہ مجھے وار دیا جائے گا
اسد اعوان
No comments:
Post a Comment