لوٹا ہوں یہ قلیل اجارا لیے ہوئے
آشوبِ دہر سارے کا سارا لیے ہوئے
قاتل نے بھی لکھی ہے وصیت ابھی ابھی
مقتول کے بدن کا سہارا لیے ہوئے
کل رات لڑ رہا تھا مری تیرگی کے ساتھ
جگنو میاں کو ایک ستارا لیے ہوئے
ہر شخص کو ہی چاہیے اپنا الگ خدا
بیٹھا ہوا ہے چاک پہ گارا لیے ہوئے
یہ زندگی بھی برف کے تاجر کی مثل ہے
والعصر، لٙوٹتی ہے خسارا لیے ہوئے
میں آنے والے وقت کی چوکھٹ پہ ہوں کھڑا
مٹھی میں جتنا وقت گزارا، لیے ہوئے
سردار فہد
No comments:
Post a Comment