Monday, 14 December 2020

ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا

 ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا

ایک دن میں بھی زمیں پر آسماں ہو جاؤں گا

ریزہ ریزہ ڈھلتا جاتا ہوں میں حرف و صوت میں

رفتہ رفتہ اک نہ اک دن میں بیاں ہو جاؤں گا

تم بلاؤ گے تو آئے گی صدائے بازگشت

وہ بھی دن آئے گا جب سُونا مکاں ہو جاؤں گا

تم ہٹا لو اپنے احسانات کی پرچھائیاں

مجھ کو جینا ہے تو اپنا سائباں ہو جاؤں گا

یہ سلگتا جسم ڈھل جائے گا جب برفاب میں

میں بدلتے موسموں کی داستاں ہو جاؤں گا

منتظر صدیوں سے ہوں آزاد اس لمحے کا جب

روز روشن کی طرح خود پر عیاں ہو جاؤں گا ​


آزاد گلاٹی

No comments:

Post a Comment