Monday, 14 December 2020

عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے

 عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے

یہ نئے لوگ ہیں برباد نہیں ہونے کے

یہ جو دعوے ہیں محبت کے ابھی ہیں جناں

اور دو چار برس بعد نہیں ہونے کے

کیا کہا توڑ کے لاؤ گے فلک سے تارے

دیکھو ان باتوں سے ہم شاد نہیں ہونے کے

نقش ہیں دل پہ مرے اب بھی تمہارے وعدے

خیر چھوڑو وہ تہمیں یاد نہیں ہونے کے

گھر لیے پھرتی ہوں ہر وقت تمہارے پیچھے

تم مگر وہ ہو کہ آباد نہیں ہونے کے

ہم نے خود پہنی ہے نصرت یہ وفا کی تصویر

ہم تو خود ہی کبھی آزاد نہیں ہونے کے


نصرت مہدی

No comments:

Post a Comment