Monday, 14 December 2020

ناف ہے کوئی سانپوں کا انصاف ہے کوئی

 حسن پہ ڈاکا


ناف ہے کوئی

ناف میں اڑتی تتلی کا اک گھائل نخرا

جیون کا اسراف ہے کوئی

جسم پہ اتنے نیل ہیں جتنے

سانس بگھارے گوری نے

کیا کیا جتن دکھائے آنسو

سانس رِجھائے چھوری نے

حسن پہ ڈاکا رات پڑا وہ

توڑا زورا زوری نے

سانپوں کا انصاف ہے کوئی

ناف ہے کوئی


عامر سہیل

No comments:

Post a Comment