حسن پہ ڈاکا
ناف ہے کوئی
ناف میں اڑتی تتلی کا اک گھائل نخرا
جیون کا اسراف ہے کوئی
جسم پہ اتنے نیل ہیں جتنے
سانس بگھارے گوری نے
کیا کیا جتن دکھائے آنسو
سانس رِجھائے چھوری نے
حسن پہ ڈاکا رات پڑا وہ
توڑا زورا زوری نے
سانپوں کا انصاف ہے کوئی
ناف ہے کوئی
عامر سہیل
No comments:
Post a Comment