Monday, 14 December 2020

آسماں زاد اور زمین افسوس

 آسماں زاد اور زمین افسوس

کیا مکاں اور کیا مکین افسوس

میری حالت پہ جو ہوا اس کو

وہ ہے دنیا کا بہترین افسوس

دام حسن و جمال خالی ہے

اے پری زاد! مہ جبین افسوس

میں تو پاگل بنا رہا تھا تمہیں

اور تم ہو گئے ذہین، افسوس

تیرگی پھیلتی ہی جاتی ہے

اے چراغوں کے وارثین افسوس

کوئی حیران ہی نہیں ہوتا

اتنے بے کار شائقین افسوس

چھوڑنی پڑ گئی محبت میں

اپنے اجداد کی زمین افسوس

تم بناتے ہو غیر کی تصویر

اور پھر اتنی بہترین، افسوس

حد سے زیادہ قریب تھے مقداد

اے مری چشم دوربین! افسوس


مقداد احسن

No comments:

Post a Comment