آسماں زاد اور زمین افسوس
کیا مکاں اور کیا مکین افسوس
میری حالت پہ جو ہوا اس کو
وہ ہے دنیا کا بہترین افسوس
دام حسن و جمال خالی ہے
اے پری زاد! مہ جبین افسوس
میں تو پاگل بنا رہا تھا تمہیں
اور تم ہو گئے ذہین، افسوس
تیرگی پھیلتی ہی جاتی ہے
اے چراغوں کے وارثین افسوس
کوئی حیران ہی نہیں ہوتا
اتنے بے کار شائقین افسوس
چھوڑنی پڑ گئی محبت میں
اپنے اجداد کی زمین افسوس
تم بناتے ہو غیر کی تصویر
اور پھر اتنی بہترین، افسوس
حد سے زیادہ قریب تھے مقداد
اے مری چشم دوربین! افسوس
مقداد احسن
No comments:
Post a Comment