تم نے دیکھا ہے کیا نظر بھر کے
آئینے ہو گئے ہیں پتھر کے
دیکھ کر رنگ دیدۂ تر کے
حوصلے پست ہیں سمندر کے
دو قدم ساتھ کیا چلا کوئی
ہم نہ گھر کے رہے نہ باہر کے
سنگِ مرمر صری کے لوگ
جی رہے ہیں ہم ان پہ مر مر کے
دیکھنے کی تو خیر تاب کہاں
سوچتے ہیں تجھے وضو کر کے
ایک منور ہے ایک راحت جاں
دل کے ٹکڑے ہیں کیا برابر کے
طاہر فراز
No comments:
Post a Comment