Monday, 14 December 2020

تم نے دیکھا ہے کیا نظر بھر کے

 تم نے دیکھا ہے کیا نظر بھر کے

آئینے ہو گئے ہیں پتھر کے

دیکھ کر رنگ دیدۂ تر کے

حوصلے پست ہیں سمندر کے

دو قدم ساتھ کیا چلا کوئی

ہم نہ گھر کے رہے نہ باہر کے

سنگِ مرمر صری کے لوگ

جی رہے ہیں ہم ان پہ مر مر کے

دیکھنے کی تو خیر تاب کہاں

سوچتے ہیں تجھے وضو کر کے

ایک منور ہے ایک راحت جاں

دل کے ٹکڑے ہیں کیا برابر کے


طاہر فراز

No comments:

Post a Comment