Monday, 14 December 2020

ایک الجھی ہوئی ڈور ہے زندگی

(Denial) ڈینائیل


ایک الجھی ہوئی ڈور ہے زندگی

ریشمی تار سی

شبنمی آگ سی

ہواؤں کے دھارے پہ بہتی ہوئی

بے اماں، بے مروت سی

سفّاک سی

پچھلے طوفاں کا ملبہ ہے بکھرا ہوا

آس کی آخری لَو بچاتے ہوئے

ہاتھ تھکنے لگے

ہیں فِگار انگلیاں

پیر کے دائیں ٹخنے میں گویا اترتی ہوئی

زنجیر کی زنگ آلودہ کڑی

دستکیں

رت جگے، خواب اور روشنی

میں ٭ڈینائیل کے آخری دور میں ہوں کھڑی

کہ پردہ ہٹے اور منظر کھلے

کیا بہت دیر ہے؟

فصلِ گُل پک چکی

پھوٹتی کیوں نہیں ہے کوئی آبجو

کیا بہت دیر ہے؟


شاہین کاظمی

No comments:

Post a Comment