Monday, 14 December 2020

اک ترے وصل کے موسم کے سوا ہاتوں میں

 اک ترے وصل کے موسم کے سوا ہاتوں میں

مستقل کوئی بھی لمحہ نہ رہا ہاتوں میں

تیری خواہش میں فقط ہات اٹھا لیتا ہوں

اور پھر خود ہی ابھرتی ہے دعا ہاتوں میں

سوچ رکھا ہے تجھے دل میں بساؤں ایسے

جیسے ہوتا ہے مقدر کا لکھا ہاتوں میں

ساتھ چلنے سے بنا کرتے ہیں دل کے رشتے

کون ورنہ لیے پھرتا ہے وفا ہاتوں میں

میں نے بانٹی تھی اجالوں کی تمنا دل کو

لکھ دیا کس نے اندھیروں کا پتا ہاتوں میں

جب بھی تقدیر سے ہٹ کر تجھے سوچا ہم نے

دل کا ہر خواب الجھتا ہی گیا ہاتوں میں

عمر بھر پھر نہ اکیلا کبھی ہونے پایا

ہات اک بار فقط اس نے دیا ہاتوں میں

جیسے اک نام کے لکھنے سے مہک اٹھتی تھی

اب بھی کیا ویسے مہکتی ہے حنا ہاتوں میں

چھین لے جائے نہ قسمت کی سیاہی ثامر

مت لکیروں کی طرح اس کو چھپا ہاتوں میں


ثامر شعور

No comments:

Post a Comment