اک ترے وصل کے موسم کے سوا ہاتوں میں
مستقل کوئی بھی لمحہ نہ رہا ہاتوں میں
تیری خواہش میں فقط ہات اٹھا لیتا ہوں
اور پھر خود ہی ابھرتی ہے دعا ہاتوں میں
سوچ رکھا ہے تجھے دل میں بساؤں ایسے
جیسے ہوتا ہے مقدر کا لکھا ہاتوں میں
ساتھ چلنے سے بنا کرتے ہیں دل کے رشتے
کون ورنہ لیے پھرتا ہے وفا ہاتوں میں
میں نے بانٹی تھی اجالوں کی تمنا دل کو
لکھ دیا کس نے اندھیروں کا پتا ہاتوں میں
جب بھی تقدیر سے ہٹ کر تجھے سوچا ہم نے
دل کا ہر خواب الجھتا ہی گیا ہاتوں میں
عمر بھر پھر نہ اکیلا کبھی ہونے پایا
ہات اک بار فقط اس نے دیا ہاتوں میں
جیسے اک نام کے لکھنے سے مہک اٹھتی تھی
اب بھی کیا ویسے مہکتی ہے حنا ہاتوں میں
چھین لے جائے نہ قسمت کی سیاہی ثامر
مت لکیروں کی طرح اس کو چھپا ہاتوں میں
ثامر شعور
No comments:
Post a Comment