Sunday, 13 December 2020

ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں

 ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں

کوئی تو مجھ سے بڑا ہے مجھ میں

انکساری مِرا شیوہ ہے، مگر

اک ذرا زعمِ انا ہے مجھ میں

مجھ سے وہ کیسے بڑا ہے کہیے

جب خدا میرا چھپا ہے مجھ میں

میں نہیں ہوں تو مُرا کون ہے یہ

اتنے جنموں جو رہا ہے مجھ میں

وہی لمحے تو غزل چھیڑتے ہیں

جن کی گم گشتہ صدا ہے مجھ میں

دشتِ ظلمات میں ہمراہ مِرے

کوئی تو ہے جو جلا ہے مجھ میں ​


آزاد گلاٹی

No comments:

Post a Comment