Sunday, 13 December 2020

وہ شخص جو رکھتا ہے جمال اور طرح کا

 وہ شخص جو رکھتا ہے جمال اور طرح کا

ہے اس سے بچھڑنے کا ملال اور طرح کا

آثار خرابی کے ہیں،۔ آغاز سے ظاہر

لگتا ہے کہ گزرے گا یہ سال اور طرح کا

اس شہر زیاں کار کے امکان سے باہر

میں اب کے دکھاؤں گا، کمال اور طرح کا

ہوتا ہے ہمیشہ ہی نئے رنج میں ڈوبا

اس جادۂ وحشت پہ دھمال اور طرح کا

اس شہر فسوں گر کے عذاب اور، ثواب اور

ہجر اور طرح کا ہے، وصال اور طرح کا

اب گھر سے نکلنا ہی پڑے گا کہ مخالف

اس بار اٹھاتے ہیں، سوال اور طرح کا


خالد معین

No comments:

Post a Comment