Sunday, 13 December 2020

سینہ خاک پہ بکھرا ہے لہو گاؤں میں

 سینۂ خاک پہ بکھرا ہے لہو گاؤں میں

ایسا لگتا ہے کہ لوٹ آیا ہے تُو گاؤں میں

گفتگو ہو گی تری خود سے کسی کے لب پر

تُو کسی روز کسی پھول کو چھُو گاؤں میں

کچی مسجد ہے جہاں پڑھتے ہیں سب لوگ نماز

اور اک نہر سے کرتے ہیں وضو گاؤں میں

مل کے بیٹھیں گے خوشی اور غمی میں سارے

جاری رکھیں گے محبت کی یہ خو گاؤں میں

نہ پرندے ہیں، نہ اب کھیلتے بچے تاثیر

اب تو چھایا ہے فقط عالمِ ہُو گاؤں میں


تاثیر جعفری

No comments:

Post a Comment