لمبی رُتوں میں یار کوئی داستان کھینچ
گل کھینچ، خوشبوؤں سے بھرا گلستان کھینچ
اندر کے اے فقیر! کہیں اور چلتے ہیں
میں رقص کرنے لگتا ہوں، تُو کوئی تان کھینچ
بے دست و پا ہی کرنا تو پوری طرح سے کر
چھت کھینچنے سے اچھا ہے تُو آسمان کھینچ
سانسوں کا آنا جانا معطل نہیں ہوا
جانانِ جان سن! تُو ذرا اور جان کھینچ
صدقے سخی کے، بولا جو دستِ سوال پر
دو گز زمین دیتا ہوں اس پر مکان کھینچ
تیری وفا کا سن کے میں کھینچوں تری زباں
بہتر ہے لاکھ اس سے تو اندر زبان کھینچ
اب دل کے ایک حصے پہ کوئی اور آ گیا
تُو آ کے اپنے حصے پہ کوئی نشان کھینچ
عبید ثاقب
No comments:
Post a Comment