Sunday, 13 December 2020

پا لینے کے بعد بھی کھونا پڑ سکتا ہے

پا لینے کے بعد بھی کھونا پڑ سکتا ہے

اس کو بھی تو کسی کا ہونا پڑ سکتا ہے

پیار میں انہونی کا امکاں رہتا ہے

ہنسنے والی بات پہ رونا پڑ سکتا ہے

مہندی سے اک نام کو لکھنے والی سن لے

ہاتھوں کو مل مل کے دھونا پڑ سکتا ہے

تتلی کے پر سے بھی نازک جذبوں کو

اک دن بوجھ سمجھ کر ڈھونا پڑ سکتا ہے

آدھے سپنوں کی تکمیل بھی لازم ہے

جاگتی آنکھوں سے بھی سونا پڑ سکتا ہے


بشریٰ خلیل 

No comments:

Post a Comment