پا لینے کے بعد بھی کھونا پڑ سکتا ہے
اس کو بھی تو کسی کا ہونا پڑ سکتا ہے
پیار میں انہونی کا امکاں رہتا ہے
ہنسنے والی بات پہ رونا پڑ سکتا ہے
مہندی سے اک نام کو لکھنے والی سن لے
ہاتھوں کو مل مل کے دھونا پڑ سکتا ہے
تتلی کے پر سے بھی نازک جذبوں کو
اک دن بوجھ سمجھ کر ڈھونا پڑ سکتا ہے
آدھے سپنوں کی تکمیل بھی لازم ہے
جاگتی آنکھوں سے بھی سونا پڑ سکتا ہے
بشریٰ خلیل
No comments:
Post a Comment