خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا
زندگی کا زہر ورنہ اس قدر کڑوا نہ تھا
اس نے تنہائی سے گھبرا کر پکارا تو نہیں
اس سے پہلے تو مِرا دل اس طرح دھڑکا نہ تھا
ہائے وہ عالم کہ ان کی بزم میں بھی بیٹھ کر
میں یہی سوچا کیا؛ میں تو کبھی تنہا نہ تھا
اس کے اپنے ہاتھ رخساروں کو سہلانے لگے
گو بظاہر میری بابت اس نے کچھ سوچا نہ تھا
ہر طرف کِھلتی رہیں کلیاں نسیمِ صبح سے
اپنی قسمت میں صبا کا ایک بھی جھونکا نہ تھا
زندگی! اے زندگی! آ دو گھڑی مِل کر رہیں
تجھ سے میرا عمر بھر کا تو کوئی جھگڑا نہ تھا
سوچتے ہیں اب اسے آزاد! ہم کیا نام دیں
عمر کا وہ دور دل میں جب کوئی سودا نہ تھا
آزاد گلاٹی
No comments:
Post a Comment