Sunday, 2 April 2023

خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا

 خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا 

زندگی کا زہر ورنہ اس قدر کڑوا نہ تھا 

اس نے تنہائی سے گھبرا کر پکارا تو نہیں 

اس سے پہلے تو مِرا دل اس طرح دھڑکا نہ تھا 

ہائے وہ عالم کہ ان کی بزم میں بھی بیٹھ کر 

میں یہی سوچا کیا؛ میں تو کبھی تنہا نہ تھا 

اس کے اپنے ہاتھ رخساروں کو سہلانے لگے 

گو بظاہر میری بابت اس نے کچھ سوچا نہ تھا 

ہر طرف کِھلتی رہیں کلیاں نسیمِ صبح سے 

اپنی قسمت میں صبا کا ایک بھی جھونکا نہ تھا 

زندگی! اے زندگی! آ دو گھڑی مِل کر رہیں 

تجھ سے میرا عمر بھر کا تو کوئی جھگڑا نہ تھا 

سوچتے ہیں اب اسے آزاد! ہم کیا نام دیں 

عمر کا وہ دور دل میں جب کوئی سودا نہ تھا


آزاد گلاٹی

No comments:

Post a Comment