Sunday, 2 April 2023

راہ میں میری اگر آئے تو مر جائیں گے آپ

راہ میں میری اگر آئے تو مر جائیں گے آپ 

کیا مجھے یوں ہی نظر انداز کر جائیں گے آپ 

ایک پل آسودگی کا،۔ ایک لمحہ عشق کا 

مجھ سے ہم آغوش ہوتے ہی نکھر جائیں گے آپ 

سطح پر مجھ کو چھلکنے کی نہ دعوت دیجیے 

ایک قطرہ بھی اگر ٹپکا تو بھر جائیں گے آپ 

اک ادا معصومیت، اور ایک تہمتِ معصیت 

کب تلک بچتے رہیں گے ہم کدھر جائیں گے آپ 

بد شگونی کی علامت پیش خیمہ موت کا 

دیکھیے ہم جان دے دیں گے اگر جائیں گے آپ 

قبر جیسی نا پسندیدہ جگہ بھی ارتضٰی

دل کبھی ہرگز نہ چاہے گا مگر جائیں گے آپ 


ارتضیٰ نشاط

No comments:

Post a Comment